ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بابری مسجد شہادت معاملہ؛ اڈوانی ، جوشی اور دیگر کیخلاف مقدمہ ممکن؛ سپریم کورٹ کے تیور ہوئے سخت

بابری مسجد شہادت معاملہ؛ اڈوانی ، جوشی اور دیگر کیخلاف مقدمہ ممکن؛ سپریم کورٹ کے تیور ہوئے سخت

Tue, 07 Mar 2017 02:19:41    S.O. News Service

نئی دہلی 6/ مارچ (ایس او نیوز) بابری مسجد کی شہادت کی سازش رچنے کے الزام سے تکنیکی بنیاد پر بچ نکلنے والے بی جے پی کے سنئیر لیڈر ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 13 لیڈروں کے خلاف سازش کا مقدمہ بحال ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں۔  اس معاملے کی سماعت کے دوران پیر کو سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ایل کے اڈوانی اور دیگر کے خلاف بابری مسجد کی شہادت کے مقدمہ میں تکنیکی بنیادوں پر مقدمہ کے اخراج کو تسلیم نہیں کرے گی بلکہ اضافی چارج شیٹ کی اجازت دے گی۔ اسی کے ساتھ ہی عدالتنے اُن تمام کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ کے احیاء کا اشارہ دیا۔

 سپریم کورٹ کی بنچ جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس آر ایف نریمان پر مشتمل تھی ۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 22 مارچ کو مقرر کی گئی ہے ۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ایودھیا میں واقع متنازعہ ڈھانچے کو تباہ کرنے کے کیس کی سماعت دو الگ الگ عدالتوں میں کرنے کی بجائے ایک جگہ کرنے کا آج اشارہ دیا۔عدالت عظمی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی، مرکزی وزیر اوما بھارتی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلائے جانے کے بھی اشارہ دیے ہیں۔جسٹس پناکي چندر گھوش اور جسٹس روھگٹن ایف نریمن کی بنچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور حاجی محبوب احمد کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے ۔سماعت کے دوران عدالت عظمی نے سی بی آئی سے پوچھا کہ مندرجہ بالا رہنماؤں کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ نے جب مجرمانہ سازش رچنے کی دفعہ خارج کی تھی تو ضمنی چارج شیٹ داخل کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ صرف تکنیکی بنیاد پر کسی کو راحت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ معاملے کی سماعت دو الگ الگ عدالتوں میں کرنے کے بجائے ایک ہی جگہ کیوں نہیں کی جا سکتی؟عدالت نے کہا کہ رائے بریلی میں چل رہی سماعت کو لکھنؤ منتقل کیوں نہ کر دیا جائے ، کیونکہ اس سے منسلک ایک معاملہ کی سماعت پہلے ہی وہاں جاری ہے ۔ کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت 22 مارچ کو مقرر کیا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ منہدم کئے جانے کے بعد اڈوانی، ریاست کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، جوشی، بھارتی اور بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے کئی لیڈروں سے مجرمانہ سازش رچنے کا معاملہ ہٹا لیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل کی گئی ہے ، جس کی سماعت چل رہی ہے ۔ پٹیشن میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 20 مئی 2010 ء کے حکم کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 120 بی (مجرمانہ سازش) ہٹا دیا تھا۔گزشتہ سال ستمبر میں سی بی آئی نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اپنی پالیسی کا تعین خود کرتی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے متاثر ہوتی ہے نیز سینئر بی جے پی لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کے الزامات ہٹانے کی کارروائی اس کے کہنے پر نہیں ہوئی ہے ۔

خیال رہے کہ بی جے پی لیڈروں کی جانب سے پیش ہونے والے دفاعی وکیل کی دلیل تھی کہ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ملزمین پر سے سازش کا الزام ہٹانے کے ذیلی عدالت کے فیصلے کی توثیق کردی تھی جس کے خلاف سی بی آئی نے نو مہینے کی تاخیر سے اپیل کی تھی، چنانچہ تاخیر کی بنیاد پر اس معاملہ کو خارج کردیا جانا چاہئے، لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر ملزم لیڈروں کو راحت نہیں دی جاسکتی، جبکہ رائے بریلی کے معاملہ میں تمام دفعات برقرار ہیں۔ اب 22/مارچ کی سماعت میں فیصلہ ہوجائے گا کہ 25 سال پرانے اس معاملہ میں بی جے پی کے لیڈروں کے خلاف پھر سے مقدمہ چلےگا یا نہیں ؟


Share: